ٹینکی میں کبوتر گرکر مرجائے تو کل پانی ناپاک ہوگا یا نہیں، ٹینکی میں نجاست گرجائے تو کیا کریں

سوال:

ٹینکی میں ایک کبوتر مردہ حالت میں پایا گیا،جبکہ ٹینکی کے پانی سے لوگ وضو و غسل کرتے ہیں اور برتن وغیرہ بھی دھوتے ہیں۔ذرا رہنمائی فرمائیں کہ اس پانی سے پڑھی گئ نمازیں اور دھوئےگئے برتنوں کا کیاحکم ہوگا؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب:

ٹینکی کا پانی پائپ کے ذریعہ آنے کی وجہ سے ماء جاری کے حکم میں ہے اور ماء جاری کا حکم یہ ہے کہ جب تک اس کا رنگ،بو،مزہ نہ بدلے تب تک وہ پاک رہے گا لہذا اس سے پڑھی گئ نمازوں کا لوٹانا اور دھوئے گئے برتنوں کا پاک کرنا واجب نہیں۔ہاں اگر رنگ،بو،مزہ بدلے تو بدلنے کے وقت سے حکم لگے گا۔

جیساکہ فتاوی عالمگیری میں ہے:

"وان کانت العذرۃ علی السطح فی مواضع متفرقۃ و لم تکن علی رأس المیزاب لا یکون نجسا و حکمہ حکم الماء الجاری کذا فی السراج و الوھاج ۔وفی بعض الفتاوی قال مشایخنا المطر مادام یمطر، فلہ حکم الجریان حتی لو اصاب العذرات علی السطح ثم اصاب ثوبا لا یتنجس الا أن یتغیر۔ماء النھر أو القناۃ اذا احتمل عذرۃ فاغترف انسان بقرب العذرۃ جاز و الماء طاھر مالم یتغیر طعمہ أو لونہ أو ریحہ۔"ملتقطاً۔ (فتاوی عالمگیری ،کتاب الطھارۃ، ج1، ص ۔17،دارالکتب العلمیۃ بیروت)

اسی طرح بہار شریعت،ج۔1،ص۔330 میں ہے۔

واللہ تعالی اعلم

از قلم: محمد صابر رضا اشرفی علائی

رسرچ اسکالر: مخدوم اشرف مشن پنڈوہ شریف مالدہ بنگال

Post a Comment

0 Comments