وارفتگیِ عشق مصطفیٰ ﷺ اور اذان بلالی رضي اللہ عنه
حضور ﷺ کے وصال کے بعد سیدنا بلال رضی اللہ عنہ مدینہ کی گلیوں میں یہ کہتے پھرتے کہ لوگو تم نے کہیں رسول اللہ ﷺ کو دیکھا ہے تو مجھے بھی دکھا دو، پھر کہنے لگے کہ اب مدینے میں میرا رہنا دشوار ہے، اور شام کے شہر حلب میں چلے گئے ۔ تقریباً چھ ماہ بعد آپ ﷺ کی خواب میں زیارت نصیب ہوئی تو آپ فرما رہے تھے: ما هذه الجفوة، يا بلال! ما آن لك أن تزورنا؟
اے بلال! یہ کیا بے وفائی ہے؟ تو نے ہمیں ملنا چھوڑ دیا)، کیا ہماری ملاقات کا وقت نہیں آیا؟
خواب سے بیدار ہوتے ہی اونٹنی پر سوار ہو کر لبيك يا سيدى يا رسول اللہ کہتے ہوئے مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہو گئے۔ جب مدینہ منورہ میں داخل ہوئے تو سب سے پہلے مسجد نبوی پہنچ کر حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی نگاہوں نے عالم وارفتگی میں آپ ﷺ کو ڈھونڈ نا شروع کیا۔ کبھی مسجد میں تلاش کرتے اور کبھی حجروں میں، جب کہیں نہ پایا تو آپ کی قبر انور پر سر رکھ کر رونا شروع کر دیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ ! آپ نے فرمایا تھا کہ آکر مل جاؤ، غلام حلب سے بہرِ ملاقات حاضر ہوا ہے۔ یہ کہا اور بے ہوش ہو کر مزار پر انوار کے پاس گر پڑے، کافی دیر بعد ہوش آیا۔ اتنے میں سارے مدینے میں یہ خبر پھیل گئی کہ مؤذن رسول حضرت بلال آگئے ہیں۔ مدینہ طیبہ کے بوڑھے، جوان، مرد، عورتیں اور بچے اکٹھے ہو کر عرض کرنے لگے کہ بلال ! ایک دفعہ وہ اذان سنا دو جو محبوب خدا ﷺ کے زمانے میں سناتے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: میں معذرت خواہ ہوں کیونکہ میں جب اذان پڑھتا تھا تو أشهد أن محمداً رسول الله کہتے وقت آپ ﷺ کی زیارت سے مشرف ہوتا اور آپ ﷺ کے دیدار سے اپنی آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچاتا تھا۔ اب یہ الفاظ ادا کرتے ہوئے کسے دیکھوں گا ؟
بعض صحابہ کرام نے مشورہ دیا کہ حسنین کریمین رضی الله عنهما سے سفارش کروائی جائے، جب وہ حضرت بلال کو اذان کے لیے کہیں گے تو وہ انکار نہ کر سکیں گے۔ چنانچہ امام حسین رضی اللہ عنہ نے حضرت بلال کے کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا: يا بلال! نشتهي نسمع أذانك الذي كنت تؤذن لرسول الله ﷺ في المسجد
اے بلال! ہم آج آپ سے وہی اذان سننا چاہتے ہیں جو آپ (ہمارے نانا جان ) اللہ کے رسول ﷺ کو اس مسجد میں سناتے تھے ۔“
اب حضرت بلال کو انکار کا یارا نہ تھا، لہذا اسی مقام پر کھڑے ہو کر اذان دی جہاں حضور ﷺ کی ظاہری حیات میں دیا کرتے تھے۔ بعد کی کیفیات کا حال کتب سیر میں یوں بیان ہوا ہے:
فلما قال: الله أكبر، الله أكبر، ارتجت المدينة، فلما أن قال: أشهد أن لا إله إلا الله، ازداد رجتها، فلما قال: أشهد أن محمداً رسول الله، خرجت العواتق من خدورهن و قالوا: بعث رسول الله ، فما رُئِىَ يوم أكثر باكيا ولا باكية بالمدينة بعد رسول اللہ صلى الله علیہ و سلم ،من ذالك اليوم
جب آپ رضی اللہ عنہ نے (بآواز بلند ) اللہ اکبر اللہ اکبر کہا، مدینہ منورہ گونج اٹھا آپ جیسے جیسے آگے بڑھتے گئے جذبات میں اضافہ ہوتا چلا گیا)، جب أشهد أن لا إله إلا الله کے کلمات ادا کئے گونج میں مزید اضافہ ہو گیا، جب أشهد أن محمدا رسول اللہ کے کلمات پر پہنچے تو تمام لوگ حتی کہ پردہ نشین خواتین بھی گھروں سے باہر نکل آئیں ( رقت و گریہ زاری کا عجیب منظر تھا) لوگوں نے کہا رسول خدا ﷺ تشریف لے آئے ہیں۔ آپ ﷺ کے وصال کے بعد مدینہ منورہ میں اس دن سے زیادہ رونے والے مرد و زن نہیں دیکھے گئے۔ علامہ اقبال رحمة اللہ علیہ اذان بلال کو ترانہ عشق قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں:
اذاں ازل سے ترے عشق کا ترانہ بنی
نماز اُس کے نظارے کا اک بہانہ بنی
![]() |
| وارفتگیِ عشق مصطفیٰ ﷺ اور اذان بلالی رضي اللہ عنه |


0 Comments