قربانی کے فضائل، احکام اور اعمال: ایک جامع شرعی رہنمائی
عید الاضحیٰ اسلام کے مقدّس ترین تہواروں میں سے ایک ہے، جو نہ صرف خوشی کا موقع ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں تسلیم و رضا، ایثار اور بندگی کا عظیم الشان مظاہرہ ہے۔ قربانی سیدنا حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اس بے مثال قربانی کی یادگار ہے جسے اللہ پاک نے امتِ محمدیہ ﷺ کے لیے ایک مستقل عبادت بنا دیا۔
اگر آپ اس سال قربانی کا ارادہ رکھتے ہیں، تو اس کے فضائل، شرائط اور مسنون اعمال سے واقفیت حاصل کرنا بے حد ضروری ہے تاکہ یہ عبادت بارگاہِ الٰہی میں قبولیت کا درجہ پا سکے۔
۱. قربانی کی شرعی حیثیت اور فضائل
قرآن و حدیث میں قربانی کی اہمیت اور اس پر ملنے والے اجر و ثواب کا کثرت سے ذکر کیا گیا ہے۔
قرآنِ کریم کی روشنی میں
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ (سورۃ الکوثر: ۲)
*ترجمہ: "پس آپ اپنے رب کے لیے نماز پڑھیے اور قربانی کیجئے
ایک اور مقام پر ارشاد باری تعالیٰ ہے:
لَنْ يَّنَالَ اللّٰهَ لُحُوْمُهَا وَلَا دِمَاۤؤُهَا وَلٰكِنْ يَّنَالُهُ التَّقْوٰى مِنْكُمْ (سورۃ الحج: ۳۷)
ترجمہ: اللہ کو ہرگز نہ ان (قربانی کے جانوروں) کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ ان کا خون، بلکہ اسے تو تمہارے دل کا تقویٰ پہنچتا ہے۔
احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں
خون کا قطرہ گرنے سے پہلے مغفرت: رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: "قربانی کے دنوں میں ابنِ آدم کا کوئی عمل اللہ تعالیٰ کے نزدیک خون بہانے (قربانی کرنے) سے زیادہ پسندیدہ نہیں. اور قربانی کا خون زمین پر گرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کے ہاں مقامِ قبولیت پا لیتا ہے، لہٰذا تم خوش دلی سے قربانی کیا کرو۔" (جامع ترمذی)
ہر بال کے بدلے نیکی:
صحابہ کرامؓ نے عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ! یہ قربانیاں کیا ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: "یہ تمہارے باپ ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے۔" صحابہ نے پوچھا: اس میں ہمارے لیے کیا ثواب ہے؟ فرمایا: "ہر بال کے بدلے ایک نیکی ہے۔" (سنن ابن ماجہ)
۲. قربانی کس پر واجب ہے؟ (شرائطِ وجوب)
قربانی ہر اس مسلمان مرد اور عورت پر واجب ہے جو عید کے تین دنوں (۱۰، ۱۱ اور ۱۲ ذوالحجہ) میں درج ذیل شرائط پر پورا اترتا ہو:
مسلمان ہونا: غیر مسلم پر قربانی نہیں۔
مقیم ہونا: مسافر پر (شرعی سفر کے دوران) قربانی واجب نہیں۔
آزاد ہونا: غلام پر واجب نہیں۔
صاحبِ نصاب ہونا: جس شخص کے پاس عید کے دنوں میں اس کی بنیادی ضرورتوں اور قرض سے زائد ۷.۵ تولہ سونا، یا ۵۲.۵ تولہ چاندی، یا اس کی مالیت کے برابر نقدی رقم یا تجارتی سامان موجود ہو، اس پر قربانی واجب ہے۔ (یاد رہے کہ قربانی کے نصاب پر سال گزرنا شرط نہیں ہے)۔
۳. قربانی کے جانور اور ان کی عمریں
قربانی صرف مخصوص پالتو چوپایوں (انعام) کی ہی جائز ہے، جن کی تفصیل درج ذیل ہے:
جانور کا نام، کم از کم عمر اور شراکت داری (حصے)
بکرا، بکری، دنبہ، بھیڑ۱ سال (اگر ۶ ماہ کا دنبہ اتنا صحت مند ہو کہ سال بھر کا لگے تو جائز ہے) صرف ۱ شخص کے لیے۔
گائے، بیل، بھینس ۲ سال مکمل ۷ افراد تک شریک ہو سکتے ہیں
اونٹ، اونٹنی ۵ سال مکمل ۷ افراد تک شریک ہو سکتے ہیں ۔
جانور کا عیب سے پاک ہونا:
قربانی کا جانور صحت مند ہونا چاہیے۔ ایسا جانور جو اندھا ہو، کانا ہو، شدید لنگڑا ہو، بہت زیادہ بیمار یا اس حد تک لاغر ہو کہ ہڈیوں میں گودا نہ رہا ہو، اس کی قربانی جائز نہیں ہے۔
۴. ذوالحجہ کے مسنون اعمال اور آداب
جو شخص قربانی کا ارادہ رکھتا ہو، اس کے لیے شریعت نے کچھ مستحب اور مسنون اعمال بیان فرمائے ہیں:
۱. بال اور ناخن نہ کاٹنا (مستحب)
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جب ذوالحجہ کا چاند نظر آ جائے اور تم میں سے کوئی قربانی کا ارادہ رکھتا ہو، تو وہ اپنے بال اور ناخن کاٹنے سے رک جائے۔" (صحیح مسلم)۔ یہ عمل حاجیوں سے مشابہت اختیار کرنے کے لیے کیا جاتا ہے اور اس کا وقت یکم ذوالحجہ سے لے کر قربانی کرنے تک ہے۔
۲. تکبیراتِ تشریق کا اہتمام
ذوالحجہ کی فجر سے لے کر ۱۳ ذوالحجہ کی عصر تک (کل ۲۳ نمازوں کے بعد) ہر فرض نماز کے بعد بلند آواز سے ایک مرتبہ یہ تکبیر کہنا واجب ہے:
"اللہ اکبر، اللہ اکبر، لا الہ الا اللہ، واللہ اکبر، اللہ اکبر، وللہ الحمد"۔
۳. عید کے دن کے آداب
صبح جلدی بیدار ہونا، غسل کرنا اور مسواک کرنا۔
عید کی نماز سے پہلے کچھ نہ کھانا (مستحب ہے کہ دن کا پہلا کھانا قربانی کا گوشت ہو)۔
عیدگاہ پیدل جانا، اور جاتے ہوئے راستے میں تکبیریں پڑھنا۔
عید کی نماز کے لیے ایک راستے سے جانا اور دوسرے راستے سے واپس آنا۔
۵. قربانی کا طریقہ اور گوشت کی تقسیم
ذبح کا طریقہ:
جانور کو قبلہ رخ بائیں کروٹ پر لٹایا جائے اور ذبح کرتے وقت "بِسْمِ اللَّهِ اللَّهُ أَكْبَرُ" پڑھا جائے۔ اگر اپنی قربانی خود ذبح کرنا ممکن ہو تو افضل ہے، ورنہ ذبح کے وقت وہاں موجود ہونا بہتر ہے۔
شریعت نے گوشت کی تقسیم کے حوالے سے وسعت دی ہے، تاہم سب سے پسندیدہ طریقہ یہ ہے کہ گوشت کے تین برابر حصے کیے جائیں:
1. ایک حصہ: غریبوں اور محتاجوں کے لیے۔
2. دوسرا حصہ: رشتہ داروں اور دوست احباب کے لیے۔
3. تیسرا حصہ: اپنے گھر والوں اور ذاتی استعمال کے لیے۔
اہم نوٹ: قربانی کی کھال یا گوشت کسی قصائی کو اس کی اجرت (مزدوری) میں دینا جائز نہیں ہے۔ قصائی کی اجرت الگ سے اپنے پاس سے دی جائے۔ قربانی کی کھال کا بہترین مصرف یہ ہے کہ اسے کسی مستحقِ زکوٰۃ یا دینی مدارس کو صدقہ کر دیا جائے۔
![]() |
| Qurbani my Fazayil |
نوٹ
قربانی محض ایک رسم یا گوشت کھانے کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ اپنے اندر تقویٰ، ایثار، غریب پروری اور اللہ کی رضا کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنے کا پیغام رکھتی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ دکھاوے اور ریاکاری سے بچتے ہوئے خالص نیت کے ساتھ اس فریضے کو سرانجام دیں تاکہ ہماری قربانی بارگاہِ الٰہی میں شرفِ قبولیت حاصل کر سکے۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کی قربانیوں اور عبادات کو قبول فرمائے۔ آمین!


0 Comments