احترامِ رمضان اور ہماری ذمہ داریاں: ایک شرعی و اخلاقی جائزہ
رمضان المبارک محض بھوکا پیاسا رہنے کا نام نہیں، بلکہ یہ تقویٰ کی مشق اور شعائرِ اسلام کی تعظیم کا مہینہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں ارشاد فرمایا:
"وَمَن يُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللَّهِ فَإِنَّهَا مِن تَقْوَى الْقُلُوبِ"
(ترجمہ: اور جو اللہ کی نشانیوں کی تعظیم کرے، تو یہ دلوں کے تقویٰ سے ہے۔ - سورہ الحج)
رمضان المبارک اللہ کی نشانیوں میں سے ایک بڑی نشانی ہے، جس کا احترام ہر مسلمان پر لازم ہے۔
1. روزہ ٹوٹ جانے یا نہ رکھنے کی صورت میں حکم
فقہِ حنفی (جیسا کہ بہارِ شریعت اور فتاویٰ عالمگیری میں صراحت ہے) کے مطابق اگر کسی شخص کا روزہ کسی شرعی عذر (مثلاً بیماری یا سفر) کی وجہ سے نہیں ہے، یا کسی وجہ سے روزہ ٹوٹ گیا ہے، تو اس پر واجب ہے کہ وہ "تشبہ بالصائمین" اختیار کرے۔ یعنی افطار کے وقت تک کھانے پینے سے رکا رہے تاکہ روزہ داروں کی مشابہت برقرار رہے۔
2. کھلم کھلا کھانے پینے کی ممانعت
اگر کوئی شخص معذور ہے اور اسے کچھ کھانا ضروری ہے، تو اس کے لیے حکم یہ ہے کہ وہ تنہائی میں کھائے۔ علانیہ (Publicly) کھانے پینے کی ممانعت کی چند بنیادی وجوہات درج ذیل ہیں:
حرمتِ وقت کا پاس: رمضان کا وقت بذاتِ خود مقدس ہے۔ جس طرح مسجد میں بے ادبی جائز نہیں، اسی طرح رمضان کی ساعتوں میں سرِ عام کھانا پینا اس مقدس وقت کی توہین ہے۔
فتنے کا سدِ باب: علانیہ کھانے سے دوسروں کو یہ تاثر ملتا ہے کہ گویا دین کی حدود کو پامال کرنا کوئی بڑی بات نہیں، جس سے معاشرے میں بے راہ روی پھیلتی ہے۔
گناہ کا اظہار: حدیثِ مبارکہ میں ہے کہ: "میری تمام امت کو معاف کیا جائے گا سوائے ان کے جو اعلانیہ گناہ کرتے ہیں۔" (صحیح بخاری)۔ اگر کسی کا روزہ جان بوجھ کر ٹوٹا ہے، تو اسے ظاہر کرنا دوہرا گناہ ہے۔
3. غیر مسلموں کا احترامِ رمضان
جیسا کہ مشہور حکایت میں ایک مجوسی (یا یہودی) نے اپنے بیٹے کو صرف اس لیے سزا دی کہ اس نے مسلمانوں کے سامنے کھایا تھا، تو اللہ نے اس "احترام" کے بدلے اسے ایمان کی دولت سے نواز دیا۔ جب ایک غیر مسلم کے لیے احترامِ رمضان نجات کا ذریعہ بن سکتا ہے، تو ایک کلمہ گو مسلمان کے لیے اس کی بے حرمتی کتنی بڑی محرومی کا باعث ہوگی؟
4. ہماری معاشرتی ذمہ داریاں
ایک مثالی اسلامی معاشرے کی تشکیل کے لیے ہمیں درج ذیل باتوں کا خیال رکھنا چاہیے:
ہوٹلوں اور ریستورانوں کا پردہ: عوامی مقامات پر کھانے پینے کی دکانوں کو دن کے وقت ڈھانپ کر رکھنا چاہیے۔
بچوں کی تربیت: اگرچہ چھوٹے بچوں پر روزہ فرض نہیں، لیکن انہیں بھی یہ سکھانا چاہیے کہ وہ روزہ داروں کے سامنے نہ کھائیں۔
بیمار اور مسافر کا طرزِ عمل: اگر آپ کسی شرعی عذر کی بنا پر روزہ نہیں رکھ پا رہے، تو اپنی معذوری کا ڈھنڈورا نہ پیٹیں بلکہ خاموشی سے اپنی ضرورت پوری کریں۔
خلاصہ کلام
رمضان کا احترام دراصل اللہ کی محبت کا تقاضا ہے۔ جو شخص اس مہینے کی قدر کرتا ہے، اللہ پاک اسے دنیا اور آخرت میں معزز فرماتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم نہ صرف خود روزہ رکھیں بلکہ اپنے عمل سے اس مہینے کے تقدس کو بھی برقرار رکھیں۔
احترامِ رمضان کی شرعی حیثیت اور ہماری اخلاقی ذمہ داریاں۔ جانیے کہ روزہ ٹوٹ جانے کی صورت میں 'تشبہ بالصائمین' کا کیا حکم ہے اور علانیہ کھانے پینے کے نقصانات کیا ہیں۔ ایک مدلل اور تحقیقی مضمون
احترامِ رمضان، فضائلِ رمضان، روزہ ٹوٹنے کا حکم، رمضان کی حرمت۔تشبہ بالصائمین، علانیہ کھانا پینا، رمضان کے مسائل، فقہ حنفی روزہ، رمضان کا ادب۔کیا روزہ ٹوٹنے کے بعد کھا پی سکتے ہیں؟، احترامِ رمضان اور ہماری ذمہ داریاں، غیر مسلم کا احترامِ رمضان کا واقعہ۔

0 Comments