علامہ مفتی نظام الدین علیمی مصباحی صاحب قبلہ

 علامہ مفتی نظام الدین علیمی مصباحی صاحب قبلہ

✍️  مزمل حسین علیمی آسامی


مفتی صاحب درسِ نظامی کے ایک ماہر اور ممتاز استاد ہیں۔ آپ 1972ء میں بتھریا خورد، ضلع سدھارتھ نگر، اتر پردیش میں پیدا ہوئے۔

آپ نے ملک کے نمایاں تعلیمی اداروں، مدرسہ اہلِ سنت نور العلوم، ٹنڈوا، سدھارتھ نگر ( ابتدائی فارسی و عربی درجات) دارالعلوم اہلِ سنت فیض الرسول، براؤں شریف، (جماعتِ اولیٰ و ثانیہ) دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی (جماعتِ ثالثہ تا خامسہ) اور جامعہ اشرفیہ مبارک پور (عالمیت و فضیلت) سے تعلیم حاصل کی۔

ملک کے مرکزی ادارہ دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی میں گزشتہ 32 سالوں سے تدریسی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اس وقت ادارے کے ناظم تعلیمات اور نائب صدر ہیں۔ قبل ازیں آپ شیخ الحدیث کے منصب پر بھی فائز رہ چکے ہیں۔ تدریسی مہارت اور وسیع علمی تجربے کے باعث آپ عصرِ حاضر کے ممتاز اساتذۂ درسِ نظامی میں شمار ہوتے ہیں۔

عربی گرامر کے فنِ صرف میں لکھی گئی آپ کی مشہور و مقبول کتاب *’’قواعد الصرف‘‘* ملک بھر کے سیکڑوں مدارس کے نصابِ تعلیم میں شامل ہے، جس سے روزانہ ہزاروں طلبہ مستفید ہو رہے ہیں۔ اور ان شاء اللہ مستقبل میں بھی طلبہ اس سے استفادہ کرتے رہیں گے۔ 

مقاماتِ حریری جیسی اہم کتاب پر حاشیہ، شرحِ دیوانِ حماسہ کی تحقیق، نیز مختلف مذہبی موضوعات پر متعدد مضامین اور مجلسِ شرعی، جامعہ اشرفیہ مبارک پور کے فقہی سیمیناروں کے لیے درجنوں مقالات بھی تحریر کر چکے ہیں۔

 دین کی خدمت کرنے والے عظیم افراد میں اساتذہ کا مقام نہایت اہم ہوتا ہے، کیوں کہ ان کی تدریس کا اثر دنوں،مہینوں،سالوں بلکہ صدیوں تک باقی رہتا ہے۔ اساتذہ کے علم سے ہزاروں طلبہ کامیاب ہوتے ہیں اور طلبہ کے طلبہ بھی فیض یاب ہوتے رہتے ہیں۔

علامہ مفتی نظام الدین علیمی مصباحی صاحب قبلہ
علامہ مفتی نظام الدین علیمی مصباحی صاحب قبلہ


مفتی صاحب کی ذات علم و دانش، تدبر وتفکر اور حکمت عملی کا حسین امتزاج ہے۔ درس و تدریس اور تصنیف کے میدان میں آپ کی گراں قدر خدمات اہلِ علم کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ہیں، جن سے طلبہ و اہلِ علم ایک طویل عرصے سے مستفید ہو رہے ہیں۔ آپ جیسے استاذ کی اشد ضرورت ہر ادارے کو ہے۔ آپ کے اندر لا محدود علمی خزانہ مخفی ہے۔ بلاشبہ آپ جیسے استاذ علیمیہ جمداشاھی کا عظیم سرمایہ ہیں۔  

رب تعالیٰ آپ کی خدمات کو شرف قبولیت عطا فرمائے اور آپ کا سایہ شفقت ہم گناہ گاروں پر دراز فرمائے۔۔۔۔ آمین

Post a Comment

0 Comments