کھیتی کی زمین حاجت اصلیہ میں ہے یا نہیں؟کسی کے پاس اگر نصاب سے زائد قیمت کی زمین موجود ہو تو اس پر قربانی واجب ہوگی یا نہیں

سوال:

کھیتی کی زمین حاجت اصلیہ میں ہے یا نہیں؟کسی کے پاس اگر نصاب سے زائد قیمت کی زمین موجود ہو تو اس پر قربانی واجب ہوگی یا نہیں؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب

اگر کھیتی کی زمین حاجت سے زائد ہو یعنی اس کا گزر بسر اس پر منحصر نہیں بلکہ کوئی دوسرا ذریعۂ معاش بھی ہے تو اگر اس زمین کی قیمت ساڑھے باون تولہ(653گرام اور 184ملی گرام)چاندی یا ساڑھے سات تولہ(93گرام اور 312ملی گرام)سونا کی قیمت کے برابر ہو تو یہ حاجت اصلیہ میں داخل نہیں اور اس پر قربانی واجب ہے۔لیکن اگر زمین ہی پر گزر بسر ہو تو اگر سال بھر اخراجات کے مطابق یا اس سے کم آمدنی حاصل ہوتی ہےتو ایسے شخص پر قربانی واجب نہیں اور اگر اخراجات کے بعد اتنا مال بچ جائے جو نصاب کے برابر ہو تو قربانی واجب ہے۔جیساکہ ردالمحتار میں ہے

"(وشرائطھاالاسلام و الاقامۃ والیسار الذی یتعلق بہ) وجوب (صدقہ الفطر)(والیسارالخ)بأن ملک مائتی درھم أو عرضا یساویھا غیر مسکنہ و ثیاب اللبس أو متاع یحتاجہ الی ان یذبح الاضحیۃ ولو لہ عقار یستغلہ فقیل تلزم لوقیمتہ نصابا،وقیل لو یدخل منہ قوت سنۃ تلزم، و قیل لقوت شھر،فمتی فضل نصاب تلزمہ،ولوالعقار وقفا،فان وجب لہ فی أیامھا نصاب تلزم" - (ردالمحتار،کتاب الاضحیۃ ، ج : 9،ص: 453،دارالکتب العلمیۃ بیروت)

کھیتی کی زمین حاجت اصلیہ میں ہے یا نہیں؟کسی کے پاس اگر نصاب سے زائد قیمت کی زمین موجود ہو تو اس پر قربانی واجب ہوگی یا نہیں
کھیتی کی زمین حاجت اصلیہ میں ہے یا نہیں؟کسی کے پاس اگر نصاب سے زائد قیمت کی زمین موجود ہو تو اس پر قربانی واجب ہوگی یا نہیں

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"وان کان لہ عقار و مستغلات ملک اختلف المشایخ المتأخرون رحمھم اللہ تعالی فالزعفرانی والفقیہ علی الرازی اعتبرا قیمتھا وابوعلی الدقاق وغیرہ اعتبروا الدخل واختلفوا فیما بینھم قال ابوعلی الدقاق ان کان یدخل لہ من ذلک قوت سنۃ فعلیہ الاضحیۃ ومنھم من قال قوت شھر ومتی فضل من ذلک قدر مائتی درھم فصاعدا فعلیہ الاضحیۃ وان کان العقار وقفا علیہ ینظر ان کان قد وجب لہ فی ایام الاضحی قدر مائتی درھم فصاعدا فعلیہ الاضحیۃ و الا فلا کذا فی الظھیریۃ۔" (فتاوی عالمگیری،کتاب الاضحیۃ،الباب الاول،ج: 5، ص: 392،دارالکتب العلمیۃ بیروت)

فتاوی فیض الرسول و فتاوی مرکز تربیت افتاء میں بھی اسی طرح ہے۔ واللہ تعالی اعلم

از قلم: محمد صابر رضا اشرفی علائی

رسرچ اسکالر: مخدوم اشرف مشن پنڈوہ شریف مالدہ بنگال

Post a Comment

0 Comments