سوال:
اگر چھوٹا بچہ وضو کے برتن میں انگلی ڈال دے تو پانی مستعمل ہوگا یا نہیں؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب:
اگر چھوٹا بچہ وضو کے برتن میں انگلی ڈال دے تو پانی مستعمل نہیں ہوگا۔ ہاں اگر وہ عاقل ہو تو مستعمل ہوجائے گا۔ جیساکہ فتاوی عالمگیری میں ہے: "صبی تؤضأ ھل یصیر الماء مستعملاً المختار انہ یصیر مستعملاًاذاکان الصبی عاقلاً و الا فلا ھکذا فی المضمرات ۔" (فتاوی عالمگیری،کتاب الطھارۃ، ج۔1 ، ص ۔ 23،دارالکتب العلمیۃ بیروت)
فتاوی رضویہ میں ہے: بچے نے پانی کے کوزے میں اگر ہاتھ یا پیر ڈالا تو اگر یقین سے یہ معلوم ہے کہ اس کا ہاتھ یا پیر پاک ہے تو اس سے وضو جائز ہے اور اگر معلوم نہیں کہ وہ پاک ہے یا ناپاک تو مستحب یہ ہے کہ دوسرے پانی سے وضو کیا جائے ۔لیکن اگر وضو کر ہی لیا تو جائز ہے۔ (فتاوی رضویہ،ج۔2،ص۔475)اور اسی میں ہے: بہ نیت قربت سمجھ وال بچہ سے واقع ہو تو مستعمل کر دیگا۔ (فتاوی رضویہ،ج۔1،ص۔261،رضا اکیڈمی)
واللہ تعالیٰ اعلم
از قلم: محمد صابر رضا اشرفی علائی
رسرچ اسکالر: مخدوم اشرف مشن پنڈوہ شریف مالدہ بنگال
0 Comments