علامہ اختر حسین علیمی صاحب قبلہ

علامہ اختر حسین علیمی صاحب قبلہ

✍️مزمل حسین علیمی آسامی


فخرِ علیمیہ، تاج الفقہاء علامہ مفتی اختر حسین علیمی صاحب قبلہ شہر خلیل آباد، ضلع سنت کبیر نگر ( یوپی ) میں پیدا ہوئے۔

 آپ نے دارالعلوم علیمیہ جمداشاھی ضلع بستی سے فضیلت و افتا کیا‌۔ بعد ازاں ممتاز ڈگری کالج لکھنو سے بی اے اور لکھنو یونیورسٹی سے ایم اے کیا۔ اس کے علاوہ ڈپلومے اور یوپی مدرسہ بورڈ کی مختلف ڈگریاں حاصل کیں۔

تاج الشریعہ -علیہ الرحمہ- کے دست اقدس پر بیعت یافتہ ہیں۔ فقیہ ملت، تاج الشریعہ، محدث کبیر، شیخ القرآن اور علامہ مفتی شبیر حسن رحمۃ اللہ تعالی علیہم کے معتمد ، شاگرد خاص اور خلیفہ بھی ہیں۔ 

گزشتہ 28 برسوں سے علیمیہ جمداشاھی میں درس و تدریس کی عظیم خدمت انجام دے رہے ہیں۔ اور فی الحال ادارے کے شعبۂ افتا کے صدر ہیں ۔ تصنیف و تالیف اور تحقیق کی دنیا میں آپ بے مثال ہیں۔ فقہ، درس و تدریس،مناظرہ، بحث اور خطابت کے میدان میں آپ لاثانی ہیں۔ درجنوں کتابوں کے مصنف و مؤلف ہیں۔ زمانہ طالب علمی ہی سے فقہی مسائل میں دلچسپی تھی جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بڑھتی گئی۔

 مشہور فقہی مجموعہ *"فتاویٰ علیمیہ"* کے مصنف آپ ہی ہیں۔ فتاویٰ علیمیہ آپ کی لامحدود محنتوں کا ثمرہ ہے۔ اکابر علماے اہل سنت و جماعت کے ساتھ مختلف سیمیناروں میں بحیثیت باحث و ناظم مجلس شریک ہونے کا شرف حاصل ہے۔ 

علامہ اختر حسین علیمی صاحب قبلہ
علامہ اختر حسین علیمی صاحب قبلہ


مرکز اہل سنت بریلی شریف کی جانب سے منتخب ضلع سنت کبیر نگر کے قاضی شریعت ہیں۔ ملک کی مختلف ریاستوں کے علاوہ بیرونِ ملک حرمین شریفین، عرب امارات،افریقہ اور نیپال وغیرہ میں تبلیغی و دینی خدمات کے سلسلے میں دورے بھی کرچکے ہیں۔ 

فروغِ رضویات میں آپ کی خدمات عظیم قربانیوں، مسلسل جد و جہد،حقانیت اور مسلکِ اہلِ سنت کے دفاع پر مبنی ہیں۔ ملک کی مختلف ریاستوں میں آپ کے سیکڑوں تلامذہ مختلف زبانوں میں اہل سنت و جماعت کی نشرواشاعت کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ 

عام چیزیں ہر جگہ دستیاب ہوتی ہیں، جب کہ نایاب چیزیں کہیں کہیں ملتی ہیں۔ کسی عالم دین کے اندر کوئی خوبی ایسی ہو جو دوسروں میں نہ ہو تو وہ عالم نایاب ہے اور نایاب چیزیں ہمیشہ قیمتی ہوا کرتی ہیں۔

مثال دینے والے بہت ہوتے ہیں مگر مثال بننے والے بہت ہی کم ۔ جو مثال بنتا ہے پھر اس کی شناخت ہوتی ہے۔ تاج الفقہاء علامہ اختر حسین علیمی صاحب قبلہ کی ذات گرامی ہم سب کے لیے مثال ہے۔ 

رب تعالیٰ حضرت کو اپنے حفظ و امان میں رکھے اور ان کا سایہ ہم گناہ گاروں پر دراز فرمائے۔ آمین! 

Post a Comment

0 Comments