دھوکہ اور جھوٹ کےسہارے پیسہ کمانا اور اس کا حکم
سوال:
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ زید جو کہ ایک مسجد کا امام ہے وہ اپنی اصل تنخواہ چھپاتا ہے اور کم تنخواہ بتاکر حکومت سے بونس لیتا ہے یعنی مثلا اگر زید کو پچاس ہزار تنخواہ ملتی ہے تو وہ حکومت کو اس سے کم مثلا پچیس ہزار ہی تنخواہ بتاتا ہے تاکہ اس کو حکومت کی طرف کچھ اضافی رقم یعنی بونس مل جائے۔
دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا زید کا اس طرح سے جھوٹ اور دھوکہ دے کر حکومت سے بونس حاصل کرنا جائز ہے؟ اور کیا زید کے پیچھے نماز پڑھنا درست ہے؟
قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔
المستفتی : محمد سلیم
وہرہ سمنی ، بھروچ ، گجرات ۔
مقیم حال : امریکہ ۔
الجواب بعون الملک الوھاب
اس سوال کا اجمالی جواب یہ ہے کہ بر تقدیر صدق استفتاء صورت مسٶلہ میں زید کا اپنی اصل تنخواہ چھپانا اور کم تنخواہ بتاکر گورنمینٹ سے بنام بونس اضافی رقم اصول کرنا گویا گورنمینٹ کو دھوکہ دینا اور اس سے جھوٹ بولنا ہوا جوکہ شریعت میں ناجائز و گناہ اور حرام ہے ۔ نیز جب تک زید اس عمل قبیح سے سچی توبہ نہ کرلے اور آئندہ اس طرح کی فریب کاری سے پرہیز کرنے کا عزم مصمم نہ کرے اُس وقت تک اُسے امام بنانا گناہ اس کے پیچھے نماز پڑھنا مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہے بلکہ توبہ نہ کرنے پر بشرطِ استطاعت مصلی امامت سے معزول کرنا لازم ۔
یاد رہے کہ دھوکہ اور جھوٹ یہ دونوں ایسے عمل ہیں جسے اسلام نے نہایت ہی قبیح و شنیع اور نا پسند قرار دیا ہے۔ چناں چہ
*دھوکہ بازوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں فرماتا ہے:* یُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ۚ-وَ مَا یَخْدَعُوْنَ اِلَّاۤ اَنْفُسَهُمْ وَ مَا یَشْعُرُوْنَؕ(۹) ترجَمۂ کنزُالایمان: فریب دیا چاہتے ہیں اللہ اور ایمان والوں کو اور حقیقت میں فریب نہیں دیتے مگر اپنی جانوں کو اور انھیں شعور نہیں۔(پ: ١ ، سورة البقرۃ: ٩)
*مسلم شریف ، کتاب الایمان میں ہے:*
کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مَن غَشٌَنَا فَلیسَ مِنٌَا۔ یعنی جو شخص ہم کو دھوکہ دے وہ ہم سے نہیں ۔
*اور سنن ابن ماجہ کتاب التجارت، ص: ٧٤٩ میں ہے :* کہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایاکہ ”لیس منا من غَشٌَ ۔ یعنی جو دھوکہ دے وہ ہم سے نہیں ۔
اور جھوٹ بولنے والوں پر قرآن مجید میں اللہ تعالی نے لعنت فرمائی کما قال اللہ تعالی :
لَعْنَت اللَّهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ" (سورہ آل عمران: ٦١)
ترجمہ: "جھوٹوں پر اللہ کی لعنت ہو۔"
نبی کریم ﷺ نے جھوٹ کو تمام بُرائیوں کی جڑ اور جہنم میں لے جانے والا عمل قرار دیا ہے۔ *جیساکہ حدیث مبارکہ میں ہے:*
"وَإِيَّاكُمْ وَالْكَذِبَ فَإِنَّ الْكَذِبَ يَهْدِي إِلَى الْفُجُورِ وَإِنَّ الْفُجُورَ يَهْدِي إِلَى النَّارِ" (صحیح مسلم)
ترجمہ: "اور تم جھوٹ سے بچو ، کیوں کہ جھوٹ گناہ کی طرف لے جاتا ہے اور گناہ جہنم کی طرف لے جاتا ہے۔"
*نیز مشکوة شریف میں ہے:*
”ان الکذب فجور “ بے شک جھوٹ فجور ہے ۔
مذکورہ آ یات طیبہ اور احایثِ مبارکہ سے یہ بات روزِ روشن کی طرح واضح ہوگئی کہ اسلام دھوکا دہی اور جھوٹ کو سخت نا پسند کرتا ہے۔
*اور حضور اعلی حضرت علیہ الرحمۃ ارشاد فرماتےہیں:*
’’غدر (دھوکا دہی) و بد عہدی مطلقاً سب سے حرام ہے مسلم ہو یا کافر، ذمی ہو یا حربی ، مستامن ہو یا غیر مستامن، اصلی ہو یا مرتد ۔ (فتاوی رضویہ، جلد ١٤، صفحہ ١٣٩ ، رضا فاؤنڈیشن ، لاهور)
*ان مذکورہ بالا عبارات سے یہ خوب واضح ہوچکا* کہ دھوکہ دینا اور جھوٹ بولنا سخت ناجائز و حرام اور گناہ عظیم ہے۔ پس جو امام ان جیسے شنیع اور برے کام میں مبتلا ہو وہ فاسق وفاجر ، گنھگار ، مرتکب حرام اور واجب التوبہ ہے اگر زید ان جیسے کاموں سے سچی توبہ کرکے باز نہیں آتا ہے تو اس کےپیچھے نماز پڑھنا گناہ اور مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہے اور اسے مصلی امامت سے معزول کرنا شرعا واجب ہے۔
*غنیہ شرح منیہ میں ہے :*
’’لوقدموا فاسقا یاثمون‘‘۔
*اور در مختار مع شامی جلد اول میں ہے:*
’’واماالفاسق فقد عللو کراھت تقدیمہ بانہ لا یھتم لامر دینہ فی تقدیمہ للامامة تعظیمہ وقد وجب علیھم اھانت شرعا تقدیمہ کراھت تحریمہ ولذا لم تجز صلوۃ خلفہ اصلا‘‘۔ اور ہر وہ نماز جو مکروہ تحریمی ہوجائے اس کا اعادہ واجب ہے۔
*جیساکہ ردالمحتار میں ہے :* کل صلوة ادیت مع کراھة التحریم تجب اعادتھا“۔
*اعلی حضرت رضی اللہ عنہ فرما تے ہیں:*
اگر فاسق معلن ہے تو اسے امام بنانا گناہ اور اس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی ہے۔(فتاوی رضویہ)
اسی طرح کے ایک سوال کے جواب میں بحرالعلوم حضرت مفتی عبد المنان رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں :
جھوٹ گناہ کبیرہ ہے ۔ اور گناہ کبیرہ کرنے والا فاسق معلن ہے ۔
*بیضاوی شریف میں ہے: والفاسق فی الشرع الخار عن امر اللہ بارتکاب الکبیرة ۔ اور فاسق کی امامت مکروہ تحریمی ہے (فتاوی بحرالعلوم ، جلد اول ، کتاب الصلوة ، ص: ٣٤٢)
*خلاصہ جواب* یہ ہے زید کا اپنی اصل تنخواہ کو کم کرکے بتانا صریح جھوٹ ہے اور حکومت کو غلط معلومات فراہم کرکے امداد یا بونس لینا یہ سراسر دھوکہ ہے یہ دونوں عمل سخت ناجائز و حرام اور گناہ ہے اور زید مرتکب فسق وفجور اور واجب التوبہ ٹھہرا پس اگر زید ان جیسے عمل سے توبہ نہ کریں تو ان کی امامت مکروہ ہے اور ان کو بشرط استطاعت امامت سے معزول کرنا ضروری اور اگر زید توبہ کرلیتا ہے اور آئندہ ان جیسے غلط کاموں باز رہنے کا پکاوعدہ کرتا ہے تو اس کے پیچھے نماز جائز ہے۔فقط
واللہ ورسولہ اعلم بالصواب وعلمہ اتم واحکم ۔
کتبہ:
*العبد المذنب : محمد ساحل پرویز اشرفی جامعی عفی عنہ*
خادم : مدنی دارالافتا و سنی اسلامک سینٹر و خطیب وامام گلشن مدینہ مسجد ۔ واگرہ ،
وصدر المدرسین و شیخ الحدیث دارالعلوم معین الاسلام و جامعہ عائشہ صدیقہ للبنات ۔ تھام ، بھروچ ، گجرات ۔
٣ جمادی الاولی ١٤٤٨ ھ ۔ ١٥ اکتوبر ٢٠٢٦ ع ۔ بروز جمعرات ۔

0 Comments